MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

توبہ توبہ سے ندامت کی گھڑی آئی ہے

توبہ توبہ سے ندامت کی گھڑی آئی ہے
میکدے پر بڑی گھنگھور گھٹا چھائی ہے

رنگ کچھ اتنا مری وحشت دل لائی ہے
مجمع عام ہے اور آپ کا سودائی ہے

اشک پیتا ہوں تو لو دیتے ہیں چھالے دل کے
آہ کرتا ہوں تو پھر عشق کی رسوائی ہے

لو نہ دینے لگیں جلتے ہوئے گل کے رخسار
عارض گل پہ جو شبنم نے جگہ پائی ہے

میں تصور کی حدوں سے بھی گزر جاؤں گا
مجھ سے ملنے میں اگر آپ کی رسوائی ہے

جب بھی الجھا ہے سکوت شب غم سے مرا دل
تیری یادوں نے طبیعت مری بہلائی ہے

شیخ صاحب کی نصیحت بھری باتوں کے لئے
کتنا رنگین جواب آپ کی انگڑائی ہے

جب کبھی ترک مے و جام کا آیا ہے خیال
موج سے پھر تری تصویر ابھر آئی ہے

اپنی تقدیر پہ بے ساختہ آئی ہے ہنسی
جب بھی کشتی کوئی ساحل پہ نظر آئی ہے

کہکشاں ڈالے ہے چہرے پہ روپہلا آنچل
چاندنی پاؤں تلے بچھنے چلی آئی ہے

کون کہتا ہے بلندی پہ نہیں ہوں ساگرؔ
میری معراج محبت مری رسوائی ہے

ساغر خیامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم