MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ خوش ہو کے مجھ سے خفا ہو گیا

وہ خوش ہو کے مجھ سے خفا ہو گیا
مجھے کیا امیدیں تھیں کیا ہو گیا

نوید شفا چارہ سازوں کو دو
مرض اب مرا لا دوا ہو گیا

کسی غیر سے کیا توقع کہ جب
مرا دل ہی دشمن مرا ہو گیا

کہاں سے کہاں لائی قسمت مری
کس آفت میں میں مبتلا ہو گیا

میں یکجا ہی کرتا تھا اپنے حواس
کہ ان سے مرا سامنا ہو گیا

رواںؔ تو کہاں اور کہاں درد عشق
تجھے کیا یہ مرد خدا ہو گیا

جگت موہن لال رواں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم