MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

شورش خاکستر خوں کو ہوا دینے سے کیا

شورش خاکستر خوں کو ہوا دینے سے کیا
لمس آنکھوں کو بدن کا ذائقہ دینے سے کیا

ہو چکی ہے گم صدائے بازگشت غیب بھی
پتھروں کو اب کوئی نقش نوا دینے سے کیا

دھند کی گہری تہوں میں سارے پیکر دفن ہیں
اپنی بچھڑی ساعتوں کو اب صدا دینے سے کیا

اک نہال خستہ کی صورت کھڑا ہوں راہ میں
مجھ کو آنے والی رت کا آسرا دینے سے کیا

کون سمجھے گا مجھے تصویر ادھوری چھوڑ دوں
رنگ کوئی دائرہ در دائرہ دینے سے کیا

ایک دن کھا جائے گی موسم کی سنگینی انہیں
خوشبوؤں کو خواہش سیل صبا دینے سے کیا

بن گئی ہے بیعت باطل اساس وقعت رمزؔ
عرصۂ امکاں کو ذہن کربلا دینے سے کیا

محمد احمد رمز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم