MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اب تو جواب تک نہیں ملتا سلام کا

اب تو جواب تک نہیں ملتا سلام کا
شاید کہ میں رہا نہیں اب ان کے کام کا

سنتے تھے ایک دور کبھی وہ بھی آئے گا
رہ جائے گا خلوص و وفا صرف نام کا

چالاک ہوگئے ہیں کچھ احباب اس قدر
رکھتے ہیں دوست چھانٹ کر اونچے مقام کا

کہتے ہیں آؤ بیٹھو کرو بات مختصر
آئیں گے لوگ اور بھی وعدہ ہے شام کا

کیجے گلہ نہ دل پہ کوئی بار لیجئے
انجام بھی برا ہے ہوس کے غلام کا

خاور کمال صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم