MOJ E SUKHAN

زمیں پر سرنگوں بیٹھا ہوا ہوں

زمیں پر سرنگوں بیٹھا ہوا ہوں
اور اپنا ریزہ ریزہ چن رہا ہوں

اگر الجھن نہیں کوئی تو کیوں میں
مسلسل سوچتا ہوں جاگتا ہوں

اسیر روز و شب ہے زندگانی
میں اس تکرار سے اکتا گیا ہوں

مری عریانیوں پر شور کیوں ہے
اگر اندھوں میں ننگا ہو گیا ہوں

تم اپنی روشنی محفوظ رکھنا
تمہارے واسطے میں بجھ رہا ہوں

کہاں تک بھاگتا اے شہر والو
سو اب میں قتل ہونے آ گیا ہوں

تسلیم الہی زلفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم