MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

آنے میں تیرے دوست بہت دیر ہو گئی

آنے میں تیرے دوست بہت دیر ہو گئی
بزم حیات اب زبر و زیر ہو گئی

پردے کچھ ایسے رو بہ رو آنکھوں کے آ گئے
دنیا مری نگاہ میں اندھیر ہو گئی

دنیا کے جبر و جور سے کیوں کر اماں ملے
میں چپ رہا تو اور بھی وہ شیر ہو گئی

کیا پوچھتے ہیں اب دل محزوں کا حال آپ
اس کو مرے ہوئے تو بہت دیر ہو گئی

ہر چند زندگی نے سنبھالے لئے بہت
پھر بھی اجل کے ہاتھ سے وہ زیر ہو گئی

سرشارؔ ذکر رونق باغ جہاں نہ کر
اکتا گیا دل اس سے نظر سیر ہو گئی

جیمنی سرشار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم