MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جب بھی جلے گی شمع تو پروانہ آئے گا

جب بھی جلے گی شمع تو پروانہ آئے گا
دیوانہ لے کے جان کا نذرانہ آئے گا

تجھ کو بھلا کے لوں گا میں خود سے بھی انتقام
جب میرے ہاتھ میں کوئی پیمانہ آئے گا

آسان کس قدر ہے سمجھ لو مرا پتہ
بستی کے بعد پہلا جو ویرانہ آئے گا

اس کی گلی میں سر کی بھی لازم ہے احتیاط
پتھر اٹھا کے ہاتھ میں دیوانہ آئے گا

ناصرؔ جو پتھروں سے نوازا گیا ہوں میں
مرنے کے بعد پھولوں کا نذرانہ آئے گا

حکیم ناصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم