MOJ E SUKHAN

پلکوں پہ لے کے بوجھ کہاں تک پھرا کروں

پلکوں پہ لے کے بوجھ کہاں تک پھرا کروں
اے خواب رائیگاں میں بتا تیرا کیا کروں

وہ ہے بضد اسی پہ کہ میں التجا کروں
کچھ تو بتا اے میری انا اب میں کیا کروں

پانے کی جد و جہد میں عمریں گزر گئیں
اک بار تجھ کو کھونے کا بھی حوصلہ کروں

ہر آنے والا بزم میں تیری ہے محترم
تعظیم کو میں سب کی کہاں تک اٹھا کروں

ہر اک ورق ہے تجھ سے شروع اس کتاب کا
تو ہی بتا کہاں سے میں اب ابتدا کروں

ہے زیر غور اپنی ہی چاہت کا احتساب
تیری وفا پہ کیا میں ابھی تبصرہ کروں

جاوید نسیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم