درد ایسا ہے کہ ہر سانس پریشانی ہے
عشق یہ عشق نہیں ذہن کی نادانی ہے
پھول ایجاد ہوا بھی تو بدن کی خاطر
ورنہ خوشبو کی نجاست سے گریزانی ہے
آئنہ اس لیے تمثال نہیں ہو سکتا
میرے چہرے پہ کسی آنکھ کی حیرانی ہے
وہ تو روزن سے کوئی چاند بلاتا ہے مجھے
مطمئن ورنہ اندھیرے میں بھی زندانی ہے
چوڑیاں بیچنے والے کا کھنکتا لہجہ
اک کلائی پہ اداسی کی نگہبانی ہے
میں وہ ییاسا کہ جو دریا کی غلامی میں نہیں
پوچھتا رہتا ہوں صحراؤں سے بھی, , , پانی ہے ؟
جیسے بوسوں کا یہاں قحط پڑا ہو ارشاد
سخت دشوار مجھے جسم کی ویرانی ہے
ارشاد نیازی