MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خالی سینے کی کھنک سے تو نہیں مل سکتی

خالی سینے کی کھنک سے تو نہیں مل سکتی
چیخ کی رمز چہک سے تو نہیں مل سکتی

سرخروئی کو تو درکار ہے کامل کالک
یہ فقط دن کی دمک سے تو نہیں مل سکتی

زندگی ! دھول میں گم ٹیڑھی مسافت کی مثال
شہر کی پختہ سڑک سے تو نہیں مل سکتی

زہر کو زخم کی تکلیف کا اندازہ ہے
ایسی تاثیر نمک سے تو نہیں مل سکتی

تو بھلے اپنےدھوئیں کو بھی کسی رنگ میں ڈھال
تیری ترتیب دھنک سے تو نہیں مل سکتی

باغبانی کو ضروری ہے لہو کا گریہ
خواب خوشبو کسی شک سے تو نہیں مل سکتی

ہم پرندوں کو ہواؤں کی تسلی ارشاد
صرف پنجرے کی جھلک سے تو نہیں مل سکتی

ارشاد نیازی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم