MOJ E SUKHAN

نمو کے فیض سے رنگ چمن نکھر سا گیا

نمو کے فیض سے رنگ چمن نکھر سا گیا
مگر بہار میں دل شورشوں سے ڈر سا گیا

جفائے دوست بہت سازگار آئی ہے
خراب ہو کہ یہ دل اور کچھ سنور سا گیا

نہ جانے باد صبا کیا پیام لائی تھی
کہ پھول ہنس تو دیا پھر بھی منہ اتر سا گیا

بہ فیض شوق یہ دن دیکھنا نصیب ہوا
کہ سر سے درد کا طوفاں گزر گزر سا گیا

طلسم بزم فسون جمال سحر شباب
نگاہ شوق کا دامن گلوں سے بھر سا گیا

وہ شام ہو گئی منسوب ان کی یاد کے نام
چراغ جل سا گیا داغ دل ابھر سا گیا

وہ ایک شوخ کا انداز گفتگو تاباںؔ
جگر میں طنز کا نشتر اتر اتر سا گیا

غلام ربانی تاباں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم