MOJ E SUKHAN

کاش ایسی بھی کوئی ساعت ہو

کاش ایسی بھی کوئی ساعت ہو
روبرو آپ ہی کی صورت ہو

سوچتی ہوں تو دل دھڑکتا ہے
تم مرے جسم کی حرارت ہو

کتنے سجدوں کا قرض ہے مجھ پر
سر جھکا لوں اگر اجازت ہو

نیند آنکھوں میں اس لیے آئی
ان کے آنے کی کب بشارت ہو

مجھ کو بھیجا گیا ہے یہ کہہ کر
تم مرے عشق کی امانت ہو

ہم بھی کر لیں نماز کی نیت
حسن والے تری امامت ہو

ترک دنیا کروں گی جب میں بھی
سامنے میرے جام وحدت ہو

ہجر کی شب میں وصل کا لمحہ
اب تو ہر دن یہی کرامت ہو

یوں پگھلنے سے کچھ نہیں حاصل
شمعؔ جلنا تری محبت ہو

سیدہ نفیس بانو شمع

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم