MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زخم دل کے یوں دکھانا چاہیے

Zakhm dil kay youn dikhana chahyee

غزل

زخم دل کے یوں دکھانا چاہیے
رنج میں بھی مسکرانا چاہیے

روٹھے ساجن کو منانا چاہیے
وعدہء الفت نبھانا چاہیے

سننے والا سُن کے جس کو داد دے
حال دل کا یوں سنانا چاہیے

صرف ہاتھوں کو ملانا کچھ نہیں
دل کو بھی دل سے ملانا چاہیے

لوگ کہتے ہیں زمانے کو بُرا
خود کو بھی اچھا بنانا چاہیے

کام کرنے کا سلیقہ بھی تو ہو
سیکھنے کو اِک زمانہ چاہیے

ہم درخشاںؔ ؔٹھہرے موضوعِ سُخن
کچھ تو دنیا کو فسانہ چاہیے

درخشاں صدیقی

Darakhshan siddiqui

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم