MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جو بات دل نے کی تھی کبھی بے دلی کے ساتھ

جو بات دل نے کی تھی کبھی بے دلی کے ساتھ
وہ بات ہم کریں تو کریں کیوں کسی کے ساتھ

اک میں ہوں اپنے جسم کے زندان کا اسیر
اک تم کہ جوڑتے ہو مجھے ہر کسی کے ساتھ

کل رات میرے خواب میں بازارِ مصر تھا
اور بک رہا تھا میں وہاں جامِ جمی کے ساتھ

میں خوش ہوں اس لیے بھی کہ اپنی حدود میں
رقصاں ہوں ایک عمر سے اس شاعری کے ساتھ

آسان ہونگی جس گھڑی ہجرت کی سختیاں
پہنچوں گا اپنے روبرو زندہ دلی کے ساتھ

گردش میں اک خبر ہے خدا خیر ہی کرے
آیا ہے میرے نام پہ خط اک کلی کے ساتھ

تصویر ہم کلام ہوئی مجھ سے کیا تری
آنسو بھی ناچنے لگے میری ہنسی کے ساتھ

پھر یہ ہوا کہ وقت نے کھینچی طنابِ جاں
پھر یہ ہوا کہ رہنا پڑا بے بسی کے ساتھ

آواز مجھ کو دی تھی کسی نے قریب سے
کھیلا تھا کھیل یعنی مری سادگی کے ساتھ

پہنچی ہے ایک موجِ نسیمی مرے حضور
اب جنگ برپا ہوگی ہر اک فلسفی کے ساتھ

نسیم شیخ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم