MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ایسے ترے خیال میں ڈوبا ہوا تھا میں

ایسے ترے خیال میں ڈوبا ہوا تھا میں
اپنے ہی آس پاس میں بکھرا ہوا تھا میں

کس نے کہا ہے تم سے کہ منزل کی چاہ تھی
منزل کے تو قریب سے پلٹا ہوا تھا میں

بکھری ہوئیں تھیں کرچیاں کمرے میں جا بجا
کل آئینےکے سامنے ٹوٹا ہوا تھا میں

تم جس جگہ پہ چھوڑ کے آگے نکل گئے
کل تک اسی مقام پہ ٹھہرا ہوا تھا میں

تم مسکرا رہے تھے جو کل رات خواب میں
یعنی تمہاری آنکھ میں اترا ہوا تھا میں

جس کا جواب تم کو کئی بار دے چکا
اب بھی اسی سوال میں الجھا ہوا تھا میں

یاسر سعید صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم