MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اپنے ہی باب میں نقصان بہت کرتے ہیں

غزل

اپنے ہی باب میں نقصان بہت کرتے ہیں
میزبانی مرے مہمان بہت کرتے ہیں

اشک زخماتے ہیں کرچی کی طرح آنکھوں کو
ہم تری یاد میں نقصان بہت کرتے ہیں

نیند میں ان کے سبھی راز کو افشا کر کے
جاگنے والوں کو حیران بہت کرتے ہیں

لوٹ کر آتے نہیں وہ کبھی آنسو کی طرح
لوٹ آنے کے جو پیمان بہت کرتے ہیں

روز ملتے ہیں اسی سے جو مقدر میں نہیں
ہم مقدر کو پریشان بہت کرتے ہیں

محسن چنگیزی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم