MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہم نشینوں میں ہمارا ہم نوا کوئی نہیں

غزل

 

ہم نشینوں میں ہمارا ہم نوا کوئی نہیں
آشنا تو ہیں بہت درد آشنا کوئی نہیں

اے مسیحا موت سے کر زندگانی کا علاج
ہو رہے وہ غیر کے اب آسرا کوئی نہیں

بت کدے سے چھوٹ کر ایسا ہوئے بے خانماں
جیسے زیر آسماں میرا خدا کوئی نہیں

خود نمائی میں بھی وہ محبوب ہے مستور ہے
دیکھتے ہیں سب مگر پہچانتا کوئی نہیں

برش تیغ ادائے دوست کا احساس ہے
اب رہین منت تیر قضا کوئی نہیں

ہے تری مشق ستم کا رنگ اگر یوں ہی تو پھر
دیکھا لینا ایک دن تیرے سوا کوئی نہیں

پوچھتے ہیں مدعا مجھ سے عدو کے سامنے
مدعا یہ ہے کہ کہہ دوں مدعا کوئی نہیں

با وفا اتنی جفا پر کون ہے میرے سوا
تجھ سے بڑھ کر بد گماں اے بے وفا کوئی نہیں

بڑھ گیا ہے آج کل جور بتاں کچھ اس قدر
دست گیر بندگاں گویا خدا کوئی نہیں

لے کے بار زندگی کب تک کوئی پھرتا رہے
راہزن ہی لوٹ لے جب رہنما کوئی نہیں

جان کر بیخودؔ ہوا خود دشمن اپنی جان کا
پھر گلا کیوں دوستوں سے ہے مرا کوئی نہیں

عباس علی خان بیخود

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم