MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بہ قدر دید نہ تھے تیری انجمن کے چراغ

غزل

بہ قدر دید نہ تھے تیری انجمن کے چراغ
مری نگاہ فروزاں ہوئی ہے بن کے چراغ

ہزار باد حوادث ہزار صرصر غم
جلا رہا ہوں مگر عظمت چمن کے چراغ

نقوش شہر نگاراں ابھارتے ہی رہے
مرے جنوں کے اجالے تری لگن کے چراغ

سواد عصر میں فردا کی تابناکی ہے
بجھا دیے گئے اندیشۂ کہن کے چراغ

ہجوم غم میں ہوا تھا یہ کون نغمہ سرا
جلی ہے تیرگئ شام درد بن کے چراغ

نہ باد دشت و بیاباں نہ شام رنج و بلا
لہو سے اپنے جلاتے ہیں ہم وطن کے چراغ

جلو میں تابش قندیل آگہی لے کر
بجھا دئے ہیں محبت نے اہرمن کے چراغ

زمانہ شام بلا سے سوال کرتا ہے
کدھر گئے وہ ترے دور پر فتن کے چراغ

شرار نطق ہوا صرف ہر خیال عروجؔ
جلے تو بجھ نہ سکے شوخئ سخن کے چراغ

عبد الرؤف عروج

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم