MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بڑھاؤ ہاتھ بڑھاؤ فقیر موج میں ہے

غزل

بڑھاؤ ہاتھ بڑھاؤ فقیر موج میں ہے
تونگرو ادھر آؤ فقیر موج میں ہے

جسے بھی چاہیے خیرات نور لے جائے
بھڑک رہا ہے الاؤ فقیر موج میں ہے

خرید لے نہ تمہاری یہ کائنات تمام
اسے بتانا نہ بھاؤ فقیر موج میں ہے

گرا ہوا تو نہیں ہے زمیں کو تھامے ہے
زمین سے نہ اٹھاؤ فقیر موج میں ہے

بس اک طریقہ ہے اس کے قریب جانے کا
دھمال ڈالتے جاؤ فقیر موج میں ہے

ابھی تم اس کی نگاہوں سے دو جہاں دیکھو
ابھی سبو نہ اٹھاؤ فقیر موج میں ہے

خموش بیٹھا ہوا ہے خموش رہنے دو
اور اپنی خیر مناؤ فقیر موج میں ہے

افتخار حیدر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم