MOJ E SUKHAN

ہم صد ہزار بار تجھے دیکھتے رہے

غزل

ہم صد ہزار بار تجھے دیکھتے رہے
تھا شوق بے مہار تجھے دیکھتے رہے

کچھ نے تو مسکرا کے کہا الوداع مگر
کچھ لوگ اشک بار تجھے دیکھتے رہے

پھر یوں ہوا کہ سارے بدن پر نکل پڑیں
آنکھیں کئی ہزار تجھے دیکھتے رہے

دیوار جاں سے نقش تو تحلیل ہو گئے
مژگاں کے آر پار تجھے دیکھتے رہے

اے حسن لا زوال تو آیا جو بام پر
صدیوں کے بیقرار تجھے دیکھتے رہے

دیدہ وران شوق نہ آنکھیں جھپک سکے
لمحوں کا کیا شمار تجھے دیکھتے رہے

افتخار شاہد ابو سعد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم