MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

آخر اک دن سب کو مرنا ہوتا ہے

غزل

آخر اک دن سب کو مرنا ہوتا ہے
یعنی مصرع پورا کرنا ہوتا ہے

میں دریا کی گہرائی تک جاتا ہوں
میں نے کون سا پار اترنا ہوتا ہے

اپنے آنسو آپ ہی رونا ہوتے ہیں
اپنا گھاؤ آپ ہی بھرنا ہوتا ہے

اس صحرا کو پنچھی پوجنے آتے ہیں
جس صحرا کے دل میں جھرنا ہوتا ہے

ہم تو زمیں پر رینگنے والے کیڑے ہیں
ہم نے کب ہجرت سے ڈرنا ہوتا ہے

اڑنے والے کیسے بھول گئے عامیؔ
پاؤں آخر خاک پہ دھرنا ہوتا ہے

عمران عامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم