MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زندگی میں جو یہ روانی ہے

غزل

زندگی میں جو یہ روانی ہے
ایک کردار کی کہانی ہے

میں نے اس سے کہا یہ آنسو ہیں
اس نے مجھ سے کہا یہ پانی ہے

تازہ تازہ ہے تیرا غم عمرانؔ
یہ کہانی بڑی پرانی ہے

ایک تو سرپھری ہوا کی چال
اور کشتی بھی بادبانی ہے

زخم جس وقت کی امانت تھا
درد اس دور کی نشانی ہے

شعر جس کو سمجھ رہے ہیں جناب
یہ حقیقت میں بے زبانی ہے

پھر وہی ہے سوال کون و مکاں
پھر وہی میری بے مکانی ہے

اے خدا یہ وجود کا جھگڑا
خاک کا ہے کہ آسمانی ہے

عمران شمشاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم