MOJ E SUKHAN

تو میسر نہیں ہے، سردی ہے

غزل

تو میسر نہیں ہے، سردی ہے
اور دسمبر کی غنڈہ گردی ہے

ٹوٹ جائے اگر تو ہر انڈا
کچھ سفیدی ہے اور زردی ہے

ایک وردی ہے ماس بھی گویا
ایک وردی کے پیچھے وردی ہے

نجمؔ جھولی ہے آنکھ بھی گویا
ہم نے پھیلائی اس نے بھر دی ہے

جی اے نجم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم