MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس کی طرف سے کوئ اشارہ ہوا نہ تھا

غزل

اس کی طرف سے کوئ اشارہ ہوا نہ تھا
لیکن ہمیں یہ شبد گوارا ہوا نہ تھا

خیرات اس نے حسبِ ضرورت نہ دی ہمیں
پوری طرح ہمارا گزارا ہوا نہ تھا

منسوب میرے نام سے اس نے کیا وہ دن
وہ دن جو اس کے ساتھ گزارا ہوا نہ تھا

احسان مند اس کے ہوئے پھر بھی ہم بہت
گو اس نے جو دیا وہ ہمارا ہوا نہ تھا

لے آئی آسمان سے وہ توڑ کر مجھے
ہر چند کہ میں پورا ستارہ ہوا نہ تھا

اک عذر اس نے رکھ کے کیا بند لین دین
میں جانتا تھا اس کو خسارہ ہوا نہ تھا

اس دشت میں گدھوں نے کیا تھا مرا علاج
اچھا ہوا میں موت کا مارا ہوا نہ تھا

مجھ کو نہیں پکارا گیا میرے نام سے
میں نے تو کوئی روپ بھی دھارا ہوا نہ تھا

لے کر گلاب ائی تھی وہ ملنے آج بھی
پر آج اس نے خود کو سنوارا ہوا نہ تھا

محسن اسرار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم