MOJ E SUKHAN

ہاتھ وہ دل پہ حیا سے رکھنا

غزل

ہاتھ وہ دل پہ حیا سے رکھنا
رابطہ پھر بھی خدا سے رکھنا

کوئلے ہاتھ میں رکھنا لیکن
ہاتھ کو دور قبا سے رکھنا

دھیان رکھنا کہ بدن مل نہ سکیں
مل بھی جائیں تو جدا سے رکھنا

ہے برا وقت تو ٹل جائے گا
دھیان میں اس کے دلاسے رکھنا

دشمنی کرنا مگر بھوکوں سے
دوست بھی رکھنا تو پیاسے رکھنا

کام برہن کا یہی ہوتا ہے
رابطہ اپنے پیا سے رکھنا

ہونٹ وہ خشک نظر آئیں تو پھر
چشم و لب اپنے بھی پیاسے رکھنا

وقت ہو چائے کا تو میز پہ اب
چائے کے کپ نہیں، کاسے رکھنا

دیدنی خوش ہے کہ آتا ہے اسے
اپنے چہرے پہ مہاسے رکھنا

دل ہو بے بہرہ تو دل میں محسن
ایک دو شک نہیں: خاصے رکھنا

محسن اسرار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم