MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہم بھی بدل گئے تری طرز ادا کے ساتھ ساتھ

غزل

ہم بھی بدل گئے تری طرز ادا کے ساتھ ساتھ
رنگ حنا کے ساتھ ساتھ شوخئ پا کے ساتھ ساتھ

نکہت زلف لے اڑی مثل خیال چل پڑی
چلتا ہے کون دیکھیے آج حنا کے ساتھ ساتھ

اتنی جفا طرازیاں اتنی ستم شعاریاں
تم بھی چلے ہو کچھ قدم اہل وفا کے ساتھ ساتھ

وحشت درد ہجر نے ہم کو جگا جگا دیا
نیند کبھی جو آ گئی ٹھنڈی ہوا کے ساتھ ساتھ

ہوش اڑا اڑا دیئے راہ کے اضطراب نے
نکہت گل چلی تو تھی باد صبا کے ساتھ ساتھ

اطہر نفیس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم