MOJ E SUKHAN

میں اپنے عذاب لکھ رہی تھی

غزل

میں اپنے عذاب لکھ رہی تھی
زخموں کا حساب لکھ رہی تھی

پھولوں کی زباں کی شاعرہ تھی
کانٹوں سے گلاب لکھ رہی تھی

اس پیڑ کے کھوکھلے تنے پر
اک عمر کے خواب لکھ رہی تھی

آنکھوں سے سوال پڑھ رہی تھی
پلکوں سے جواب لکھ رہی تھی

ہر بوند شکستہ بام و در پر
بارش کا عتاب لکھ رہی تھی

اک نسل کے خواب کے لہو سے
اک نسل کے خواب لکھ رہی تھی

پھولوں میں ڈھلی ہوئی یہ لڑکی
پتھر پہ کتاب لکھ رہی تھی

عشرت آفرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم