MOJ E SUKHAN

شکوے ہمیں تو جہد مکرر کے نہیں ہیں

غزل

شکوے ہمیں تو جہد مکرر کے نہیں ہیں
ہجرت ہوئی ہے یوں کہ کسی گھر کے نہیں ہیں

کس جرم میں یہ پہلو تہی ہم سے روا ہے
اے شیشۂ گرد ہم کوئی پتھر کے نہیں ہیں

سربستۂ زنجیر کیا ہم کو جنہوں نے
وہ لوگ اسی گھر کے ہیں باہر کے نہیں ہیں

کس درجہ مکرم ہیں مرے اشک نہ پوچھو
وہ دام ملے ہیں کہ جو گوہر کے نہیں ہیں

وہ درد سہا ہے کہ جو غیروں کا نہیں تھا
وہ زخم لگے ہیں کہ جو خنجر کے نہیں ہیں

عابد جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم