MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہوش میں آتا ہے انساں ٹھوکریں کھانے کے بعد

غزل

ہوش میں آتا ہے انساں ٹھوکریں کھانے کے بعد
دن نکلتا ہے اندھیری رات ڈھل جانے کے بعد

ہر کوئی دنیا میں اپنے کو سمجھتا ہے خدا
ایک دیوانہ پڑا ہے ایک دیوانے کے بعد

آپ آنکھوں سے پلائیں اور پھر دیکھیں ذرا
ایک پیمانہ بھرے گا ایک پیمانے کے بعد

کون کہتا ہے نہیں ہے عشق میرا کامیاب
ذکر کرتے ہیں وہ میرا اپنے افسانے کے بعد

ایک پردہ بھی رہے گا دل لگی کی دل لگی
ایک مسجد بھی بناؤ ایک میخانے کے بعد

بے تکی کرتا ہے باتیں جب تلک پیتا نہیں
ہوش میں آتا ہے واعظ جام چھلکانے کے بعد

کیا کرے کوئی بھروسہ رہنماؤں پر کنولؔ
خود بہک جاتے ہیں اکثر ہم کو سمجھانے کے بعد

ڈی راج کنول

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم