غزل
اب تو زیبا نہیں اے رند گلہ بھی تیرا
جام ساقی نے سر بزم بھرا بھی تیرا
دل میں جب گرمیٔ اخلاص و محبت ہی نہیں
کام آنے کا نہیں حرف دعا بھی تیرا
بے خطر ڈال دے موجوں میں سفینہ اپنا
ناخدا بھی ہے ترا اور خدا بھی تیرا
آج طوفان اٹھانے کو اٹھا لے لیکن
زور گھٹ جائے گا اے موج بلا بھی تیرا
لب ہلانے کی یہاں جبکہ اجازت ہی نہیں
کس زباں سے کریں اے دوست گلہ بھی تیرا
ہم تو ہیں آج بھی محروم نظارا بہزادؔ
ایک وہ ہیں جنہیں دیدار ہوا بھی تیرا
بہزاد فاطمی