MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ترے طلسم سے نکلے ہوئے زمانے ہوئے

 غزل

ترے طلسم سے نکلے ہوئے زمانے ہوئے
مجھے تو خود سے بھی بچھڑے ہوئے زمانے ہوئے

سمیٹ رکھی ہیں پلکوں سے کرچیاں دل کی
کہ خوش نظر کی حدوں سے ملے زمانے ہوئے

کہاں ملی ہمیں منزل طلب کے راستے کی
کہ تیرے ساتھ بھی چلتے ہوئے زمانے ہوئے

صحیفہ پھر کوئی اترے زمینِ شاعری پر
کہ اسمان سے اترے ہوئے زمانے ہوئے

روبینہ راجپوت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم