MOJ E SUKHAN

لباس زیست کبھی یوں بھی تیرا درشن ہو

غزل

لباس زیست کبھی یوں بھی تیرا درشن ہو
سجی سجائی ہوئی جیسے کوئی دلہن ہو

یہ قحط شعر پڑا ہو نہ قحط غم کے سبب
چراغ اتنا ہی جلتا ہے جتنا ایندھن ہو

یہ میں ہی ہوں جو اداسی نکالتا ہوں تری
ہر اک فصیل میں لازم نہیں کہ روزن ہو

تو اپنے خواب مری آنکھ سے نہ دیکھا کر
برتنے کے لیے بہتر ہے اپنا برتن ہو

عجیب جلدی تھی بچپن میں کب بڑے ہوں گے
بڑے ہوئے ہیں تو جی چاہتا ہے بچپن ہو

کڑی جو ٹوٹی تو ثابت نہیں رہی زنجیر
اہم ہے وہ بھلے چھوٹا سا کوئی بندھن ہو

پارس مزاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم