MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اتنا پرجوش میرے درد کا دھارا تو نہ تھا

غزل

اتنا پرجوش میرے درد کا دھارا تو نہ تھا
کیا پس پردہ کہیں قرب تمہارا تو نہ تھا

تم نے القاب بدل کر مجھے مکتوب لکھا
اس تغیر میں کہیں تلخ اشارا تو نہ تھا

لازمہ قطع مراسم سے یہ تفریق ہوئی
ورنہ یہ عشق مجھے آپ سے پیارا تو نہ تھا

بال کھولے ہوئے کیوں آ گئے پردے کے قریب
میں نے آواز سنائی تھی پکارا تو نہ تھا

ہم تو موزوں تھے کسی عالم الفت کے لئے
زر کی دنیا میں جلیؔ کام ہمارا تو نہ تھا

جلی امروہوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم