MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خیالِ ناوک مژگاں میں بس ہم سر پٹکتے ہیں

غزل

خیالِ ناوک مژگاں میں بس ہم سر پٹکتے ہیں
ہمارے دل میں مدت سے یہ خار غم کھٹکتے ہیں

رخ روشن پہ اس کی گیسوئے شب گوں لٹکتے ہیں
قیامت ہے مسافر راستہ دن کو بھٹکتے ہیں

فغاں کرتی ہے بلبل یاد میں گر گل کے اے گلچیں
صدا اک آہ کی آتی ہے جب غنچے چٹکتے ہیں

رہا کرتا نہیں صیاد ہم کو موسم گل میں
قفس میں دم جو گھبراتا ہے سر دے دے پٹکتے ہیں

اڑا دوں گا رساؔ میں دھجیاں دامان صحرا کی
عبث خار بیاباں میرے دامن سے اٹکتے ہیں

بہار تیندو ہریش چندر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم