MOJ E SUKHAN

کس کو ملنے کا اس کے چاؤ نہیں

غزل

کس کو ملنے کا اس کے چاؤ نہیں
کس کو اس شوخ سے لگاؤ نہیں

کون سا دل ہے وہ کہ جس دل میں
اس کے تیر نگہ کا گھاؤ نہیں

مصحف رخ پہ کیونکہ ٹھہرے نظر
اس میں مطلق کوئی رہاؤ نہیں

دل تھا اپنا دیا جسے چاہا
کچھ کسی کا ہمیں دباؤ نہیں

اہل غیرت کو نان خشک اپنی
بخدا کچھ کم از پلاؤ نہیں

بس کہا مانو آؤ حضرت دل
جھوٹے وعدوں پہ اس کے جاؤ نہیں

قول ہے اہل تجربہ کا یہی
آزمائے کو آزماؤ نہیں

آتش غم میں تیری فرقت نے
دل کو کس دن دیا تپاؤ نہیں

اس کے رخ کی وہ آب و تاب ہے عیشؔ
مہ و خورشید جس کے پاؤ نہیں

حکیم آغا جان عیش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم