MOJ E SUKHAN

کنول جو وہ کنار آب جو نہ ہو

غزل

کنول جو وہ کنار آب جو نہ ہو
کسی بھی اپسرا سے گفتگو نہ ہو

قضا ہوا ہے ایک جسم بے طرح
کہیں ہماری آنکھ بے وضو نہ ہو

ہتھیلیوں میں بھر کے بات تو کریں
چراغ کو مکالمے کی خو نہ ہو

دمک رہا ہے کیسری حجاب سے
اس آئینے میں کوئی ہو بہ ہو نہ ہو

میں کیا کروں گا رہ کے اس جہان میں
جہاں پہ ایک خواب کی نمو نہ ہو

عامر سہیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم