MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تم نے یہ کیا ستم کیا ضبط سے کام لے لیا

غزل

تم نے یہ کیا ستم کیا ضبط سے کام لے لیا
ترک وفا کے بعد بھی میرا سلام لے لیا

رند خراب نوش کی بے ادبی تو دیکھیے
نیت مے کشی نہ کی ہاتھ میں جام لے لیا

ہائے وہ پیکر ہوس ہائے وہ خوگر قفس
بیچ کے جس نے آشیاں حلقۂ دام لے لیا

بادہ کشان عشق کو کچھ تو ملا پئے سکوں
حسن سحر نہ لے سکے جلوۂ شام لے لیا

نامۂ شوق پڑھ کے وہ کھو گئے یک بیک شکیلؔ
منہ سے تو کچھ نہ کہہ سکے دل سے پیام لے لیا

شکیل بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم