MOJ E SUKHAN

مجھے سنو کہ حدیث غزل نما ہوں میں

غزل

مجھے سنو کہ حدیث غزل نما ہوں میں
مجھے پڑھو ورق مصحف وفا ہوں میں

ملے گی اس میں تمہیں اپنے دل کی دھڑکن بھی
کسی کے قلب شکستہ کی اک صدا ہوں میں

تمام رات جو لڑتا رہا اندھیروں میں
حریم عشق کا وہ آخری دیا ہوں میں

بڑھا ہوا ہے زمانہ میں کاروبار کا قد
کہ اپنے قد سے بھی کچھ اور گھٹ گیا ہوں میں

ہر ایک ملتا ہے مجھ سے اب اجنبی کی طرح
خود اپنے شہر میں بیگانہ بن گیا ہوں میں

اب اپنی شکل بھی پہچان میں نہیں آتی
کبھی جو بھولے سے آئینہ دیکھتا ہوں میں

نہ فلسفی نہ مفکر نہ مجتہد نہ خطیب
وفاؔ یہ کچھ بھی نہیں ہوں مگر وفا ہوں میں

وفا ملک پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم