MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اسے خلاؤں کی وسعتوں کا تجربہ ہی نہیں

غزل

اسے خلاؤں کی وسعتوں کا تجربہ ہی نہیں
وہ میرے ساتھ کبھی عرش تک گیا ہی نہیں

میں اس کو اور ہی عالم میں لے گیا ہوتا
زمانہ انگلی پکڑ کر مری چلا ہی نہیں

ہر ایک چہرے پہ کتنی عبارتیں ہیں رقم
مری جبیں پہ تو کچھ وقت نے لکھا ہی نہیں

بلا کشان محبت میں ہے شمار مرا
یہ انکشاف تو مجھ پر کبھی ہوا ہی نہیں

بنام جام و سبو اس کو روکنا چاہا
تھا وقت مجھ سے بھی چالاک وہ رکا ہی نہیں

قصور اس کا نہیں ہے قصور میرا ہے
میں کم نصیبی کی تہہ تک کبھی گیا ہی نہیں

اک آس ذہن کے کونے میں ہے ابھی محفوظ
یہ اور کھلونا ہے راحتؔ جو ٹوٹتا ہی نہیں

اوم کرشن راحت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم