MOJ E SUKHAN

حرف ایک جنگل

نظم

کتابیں میرا جنگل ہیں
جنہیں میں کاٹ کر اب بارہویں زینے پر بیٹھا ہوں

معافی کے ہیولوں میں چمکتی صورتوں سے دور تنہا
حرف کے صدمات سہتا ہوں

کہ میں خود آگہی کے بھاری سانسوں کا سمندر ہوں
جسے نمکین پانی کی سزا آبادیوں سے

بادبان کی طرف کافی دور رکھتی ہے
کتابیں میرا جنگل ہیں

جہاں پر نفرتوں کی تیز دھڑکن
برتری کی چیختی آواز کی دستک نہیں

جو صبح کو میری رگوں میں باؤلے پن کے
چمکتے شوخ سورج کو جگائے

میں پھٹی آنکھوں سے جلتے راز کو سڑکوں پہ عریاں ملوں
کتابیں میرا ایندھن ہیں

میں کتابوں میں سلگتی آگ ہوں
جلتا ہوا کاغذ

دھوئیں میں پھیلتی تصویر ہوں
میں ان کتابوں کا ارادہ ہوں

جسے تحریر کی خواہش دماغوں میں ہراساں ہے
ہراساں ہیں

کتابیں میری آنکھیں ہیں
مگر میں تو وہ کھلتا بند ہوتا چیختا در ہوں

جو کبھی سے کہکشاں کا منتظر ہے

انیس ناگی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم