MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جنوں نے فاصلہ رکھا نہ کوئی عشق و عرفاں میں

غزل

جنوں نے فاصلہ رکھا نہ کوئی عشق و عرفاں میں
گریباں کے عوض اب ہاتھ الجھتا ہے گریباں میں

 

کہاں کا ہوش کیسی آگہی اس بزم امکاں میں
مگر اک نیم بیداری سی ہے خواب پریشاں میں

 

مزہ تو تب ہے جب اترے فلک سے آہ سن کر چاند
مچے کچھ خاص ہلچل تاکہ اس گورِ غریباں میں

 

تخیل کے دریچوں میں غزل نے خود کشی کر لی
سنا جب کچھ نہیں ہے خاص لکھنے کو پرستاں میں

یہ بجلی ہے کہ رقص جلوۂ گل خیر ہے ہمدم
قفس میں ہوں مگر میرا نشیمن ہے گلستاں میں

اختر علی گڑھی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم