MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پر کو کیوں تول رہا ہے نئے انداز کے ساتھ

غزل

پر کو کیوں تول رہا ہے نئے انداز کے ساتھ
کب قفس لے کے اڑا ہے کوئی پرواز کے ساتھ

صرف لہجہ ہی ترازو نہیں ہوتا دل میں
حرف و معنیٰ بھی سفر کرتے ہیں آواز کے ساتھ

منزلِ شوق پہ حق بھی اسی انسان کا ہے
سامنے جس کے ہو انجام بھی آغاز کے ساتھ

اس قدر تیز ہوا تھی کہ بکھر ہی جاتا
وہ تو وحشت نے سنبھالا ہے مجھے ناز کے ساتھ

مدتوں سے نہیں تحریکِ غزل کیا کہیے
بجھ گیا شعلہِ دل شعلہِ آواز کے ساتھ

ساجد رضوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم