MOJ E SUKHAN

منتظر آنکھیں ہیں میری شام سے

غزل

منتظر آنکھیں ہیں میری شام سے
شمع روشن ہے تمہارے نام سے

چھین لیتا ہے سکوں شہرت کا شوق
اس لیے ہم رہ گئے گمنام سے

سچ کی خاطر جان جاتی ہے تو جائے
ہم نہیں ڈرتے کسی انجام سے

اپنے من کی بات اب کس سے کہوں
آئنہ ناراض ہے کل شام سے

کیا عجب دنیا ہے یہ دنیا یہاں
لوگ ملتے ہیں مگر بس کام سے

ایسا کچھ ہو جائے دل ٹوٹے نہیں
سوچیے گا آپ بھی آرام سے

مجھ سے پوچھو آنسوؤں کی برکتیں
مطمئن ہوں رنج و غم آلام سے

گوند گلشن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم