MOJ E SUKHAN

اک عجب روگ مرے جی کو لگا برسوں سے

غزل

اک عجب روگ مرے جی کو لگا برسوں سے
راس آئی بھی نہیں کوئی دوا برسوں سے

یوں تو آنے کو بہار آئی خزاں بھی آئی
دل کے ماحول کی بدلی نہ فضا برسوں سے

میرے ہی دل کی یہ خوبی ہے کہ اس میں یارو
رات دن ہوتا ہے ہنگامہ بپا برسوں سے

منتیں مانگیں دوا اور دعا بھی کر لی
غنچۂ دل کسی صورت نہ کھلا برسوں سے

کسی نادار کی تربت کا ہے تنہا ضامن
ایک ٹوٹا ہوا خاموش دیا برسوں سے

کون ہے میرے سوا محرم اسرار وفا
دل مرا سوز محبت میں جلا برسوں سے

میرا انداز پرستش ہے زمانے سے جدا
میں سمجھتا ہوں صنم ہی کو خدا برسوں سے

خواب سا ہو کے رہا شیوۂ آداب و سلام
اب تو آتی ہی نہیں لب پہ دعا برسوں سے

اپنی تصویر کو دیکھا تو یہ محسوس ہوا
ایسا اک شخص مرے ساتھ رہا برسوں سے

فرد عصیاں پہ مری داور محشر نے لکھا
اس سے سرزد نہ ہوئی کوئی خطا برسوں سے

موج دریا کا ترنم کبھی دل کش رم جھم
کون ہے ان میں سدا نغمہ سرا برسوں سے

کچھ نہ کچھ اس کا بھی مفہوم تو ہوگا گوہرؔ
غیب سے آتی ہے کانوں میں صدا برسوں سے

کلدیپ گوہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم