MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

عاشق تو ملیں گے تجھے انساں نہ ملے گا

عاشق تو ملیں گے تجھے انساں نہ ملے گا
مجھ سا تو کوئی بندۂ فرماں نہ ملے گا

ہوں منتظر لطف کھڑا کب سے ادھر دیکھ
کیا مجھ کو دل اے طرۂ جاناں نہ ملے گا

کہنے کو مسلماں ہیں سبھی کعبے میں لیکن
ڈھونڈوگے اگر ایک مسلماں نہ ملے گا

ناصح اسے سینا ہے تو اب سی لے وگرنہ
پھر فصل گل آئے یہ گریباں نہ ملے گا

رہنے کے لیے ہم سے گنہ گاروں کے یا رب
کیا شہر عدم میں کوئی زنداں نہ ملے گا

ہونے کی نہیں تیری خوشی سرو خراماں
تا خاک میں یہ بے سر و ساماں نہ ملے گا

دل اس سے تو مانگے ہے عبث مصحفیؔ ہر دم
کیا فائدہ اصرار کا ناداں نہ ملے گا

غلام علی ہمدانی مصحفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم