MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کتنے باہوش ہو گئے ہم لوگ

کتنے باہوش ہو گئے ہم لوگ
خود فراموش ہو گئے ہم لوگ

جس نے چاہا ہمیں اذیت دی
اور خاموش ہو گئے ہم لوگ

دل کی آواز بھی نہیں سنتے
کیا گراں گوش ہو گئے ہم لوگ

ہم کو دنیا نے پارسا سمجھا
جب خطا کوش ہو گئے ہم لوگ

پی گئے جھڑکیاں بھی ساقی کی
کیا بلانوش ہو گئے ہم لوگ

اس طرح پی رہے ہیں خون اپنا
جیسے مے نوش ہو گئے ہم لوگ

شہر میں اس قدر تھے ہنگامے
گھر میں روپوش ہو گئے ہم لوگ

کتنے چہروں پہ آ گئی رنگت
جب سے خاموش ہو گئے ہم لوگ

زخم پائے ہیں اس قدر اعجازؔ
آج گل پوش ہو گئے ہم لوگ

اعجاز رحمانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم