MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کشمکش کتنی رہی ہے مری، تقدیر کے ساتھ

کشمکش کتنی رہی ہے مری، تقدیر کے ساتھ
دیکھ لو مجھ کو ملا کر مری تصویر کے ساتھ

حادثہ کوئی کبھی راہ کا پتھر نہ بنا
ہر نیا خواب بُنا ہے نئی تدبیر کے ساتھ

بے سبب راہ نوردی سے نہیں کچھ حاصل
پاؤں کا ربط ہو جب تک کسی زنجیرکے ساتھ

طائرِ فکر بھی پرواز کو پر کھولتا ہے
درد موجود ہو جب قلب میں تاثیر کے ساتھ

زندگی میں یہ قلم باعثِ اعجاز رہا
میں نے قرطاس پہ رکھا اسے توقیر کے ساتھ

میری سانسوں کے اُکھڑنے کی صدا تو سُن لی
دیکھنے آئے تو، آئے بھلے تاخیر کے ساتھ

ایسا لگتا ہے وصیت کی گواہی کے لیئے
مری تصویر بھی رکھ دی گئی تحریر کے ساتھ

پاؤں رکھتا ہوں کہیں اور تو پڑتا ہے کہیں
فاصلے اور بڑھے جاتے ہیں تعبیر کے ساتھ

اس لیئے بانٹتے رہتے ہیں محبت کی ضیاء
دل مسخَر نہیں ہوتے کبھی شمشیر کے ساتھ

ضیا زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم