MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بے تابیوں کو دل کی چھپا بھی نہیں سکے

بے تابیوں کو دل کی چھپا بھی نہیں سکے
جو دل کی بات تھی وہ بتا بھی نہیں سکے

دل اس طرح سے اترا ہے دریائے درد میں
ہم ڈوبنے سے اس کو بچا بھی نہیں سکے

رکھی تھیں جو تراش کے پھولوں کی ٹہنیاں
صحنِ چمن میں ان کو لگا بھی نہیں سکے

سانسیں اگلتی رہ گئیں شعلے تمام رات
اشکوں سے اپنے ان کو بجھا بھی نہیں سکے

دل مبتلا ہے کیوں مرا وہم و گمان میں
یہ بات کھل کے یار بتا بھی نہیں سکے

طوفاں نے سر اٹھایا تھا جو خواہشات کے
اس کو پھر اپنے دل میں دبا بھی نہیں سکے

بیٹھے ہوئے تھے گدھ جو محبت کی شاخ پر
ہم ان کو کیا کہیں کے اڑا بھی نہیں سکے

تھا سامنے نشانے پہ اندیشہِ شکست
ہم تیر اس پہ یار چلا بھی نہیں سکے

چاہت میں تیری ہم نے جلایا تھا جو چراغ
ہاتھوں سے وہ شمیم بجھا بھی نہیں سکے

شمیم چودھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم