زندگی کے صحرا میں کچھ نشاں نہیں ملتے
راستے تو ملتے ہیں کارواں نہیں ملتے
مامتا کی چھاوں کی قدر جو نہیں کرتے
دھوپ ان کو ملتی ہے سائباں نہیں ملتے
عمر بھر سفر ہی تو پھر نصیب ہوتا ہے
گھر سے جب نکل جائیں آشیاں نہین ملتے
اپنی اپنی دنیا میں کھو گئے ہیں ہم دونوں
تم جہاں پہ ملتے ہو ہم وہاں نہیں ملتے
دین ہو کہ یہ دنیا رائیگاں ہی ٹھہرے ہم
مفت میں تو یہ آخر دو جہاں نہیں ملتے
فیصلے کے لمحے میں عدل کرنا مشکل ہے
چشم دید لوگوں کے کیوں بیاں نہیں ملتے
درد کی کتابوں میں ہاتھ کی لکیروں میں
ہم نے پا کے دیکھا ہے غم کہاں نہیں ملتے
ڈاکٹر نزہت عباسی