MOJ E SUKHAN

زندگی کے صحرا میں کچھ نشاں نہیں ملتے

زندگی کے صحرا میں کچھ نشاں نہیں ملتے
راستے تو ملتے ہیں کارواں نہیں ملتے

مامتا کی چھاوں کی قدر جو نہیں کرتے
دھوپ ان کو ملتی ہے سائباں نہیں ملتے

عمر بھر سفر ہی تو پھر نصیب ہوتا ہے
گھر سے جب نکل جائیں آشیاں نہین ملتے

اپنی اپنی دنیا میں کھو گئے ہیں ہم دونوں
تم جہاں پہ ملتے ہو ہم وہاں نہیں ملتے

دین ہو کہ یہ دنیا رائیگاں ہی ٹھہرے ہم
مفت میں تو یہ آخر دو جہاں نہیں ملتے

فیصلے کے لمحے میں عدل کرنا مشکل ہے
چشم دید لوگوں کے کیوں بیاں نہیں ملتے

درد کی کتابوں میں ہاتھ کی لکیروں میں
ہم نے پا کے دیکھا ہے غم کہاں نہیں ملتے

ڈاکٹر نزہت عباسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم