کچھ خوفناک اندھی گپھاؤں میں قید ہیں
سب لوگ اپنی اپنی اناؤں میں قید ہیں
نکلے جو لفظ منہ سے فضاؤں میں قید ہیں
پیغام جانے کتنے ہواؤں میں قید ہیں
آوارگی کا شکوہ وہ کرنے لگے مگر
چکر ابھی کئی میرے پاؤں میں قید ہیں
جاتی ہے اب کشادہ سڑک شہر کی طرف
کچھ سادہ لوگ آج بھی گاؤں میں قید ہیں
تھوڑی سی بجلیوں میں چمک اور چاہیے
طوفان بے شمار گھٹاؤں میں قید ہیں
اب تک کیے قبیلے نے جتنے بھی فیصلے
پیپل کے بوڑھے پیڑ کی چھاؤں میں قید ہیں
رجب چودھری